Thursday, 4 May 2017

دین صرف زاویہ نگاہ کی تبدیلی کا نام ہے

حضرت ڈاکٹر عبدالحئ صاحب رحمتہ الّٰلہ علیہ فرماتے تھے کہ دین صرف زاویہ نگاہ کی تبدیلی کا نام ہے۔ صرف ذرا سا زاویہٴ نگاہ بدل لو تو یہی دنیا دین بن جائے گی۔ یہی سب کام جو تم اب تک دنیا کے کام سمجھ کر انجام دے رہے تھے، وہی سب کام عبادت بن جائیں گے اور الّٰلہ تعالیٰ کی رضا کے کام بن جائیں گے۔ شرط صرف یہ ہے کہ بس دو کام کر لو۔ 

پہلا کام تو یہ ہے کہ انسان اپنی نیّت درست کر لے۔ جو کام آج تک خالی الذّہن ہو کے یا بس دنیا کے تقاضے نبھانے کی نیّت سے انجام دے رہے تھے، اب ان کاموں کو اس نیّت سے نہیں کریں گے۔ آج سے ان کاموں کو اس نیّت سے کریں گے کہ میں یہ کام الّٰلہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے کر رہا ہوں۔ میں یہ کام اس لئے کر رہا ہوں کہ الّٰلہ تعالیٰ مجھ سے خوش ہو جائیں۔ انشاٴالّٰلہ اس نیّت کے کرنے سے ہی یہ کام عبادت میں شامل ہونا شروع ہو جائے گا۔

دوسرا کام یہ ہے کہ انسان یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ رسول الّٰلہ ﷺ اس کام کو کس طریقے سے انجام دیا کرتے تھے؟ اس کام کو کرنے میں سنّت کا طریقہ کیا ہے؟ جب وہ معلوم ہو جائے تو بس انسان اس کام کو رسول الّٰلہ ﷺ کی سنّت کے مطابق کرنے کی کوشش کرے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا تھا اتّباعِ سنّت اتنی عظیم الشّان عبادت ہے کہ الّٰلہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر تم ہمارے رسول کی سنّت کا اتّباع کرو گے، تو تم تو ہم سے کیا محبّت کرو گے، ہم تم سے محبّت کرنے لگیں گے۔ ایک مسلمان کے لئے اس سے عظیم رتبہ کیا ہو سکتا ہے؟

ماخوذ از بیان "بیمار کی عیادت کے آداب"، از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم

Wednesday, 3 May 2017

سورہٴ البقرہ: ٢٦١ تا ٢٦٤ ۔ تیسرا حصّہ

پہلی آیت میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ الّٰلہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یعنی حج میں یا جہاد میں، یا فقراء و مساکین اور بیواؤں یا یتیموں پر، یا اپنے عزیزوں یا دوستوں پر جو مالی مشکل میں ہوں ان کی مدد کی نیّت سے، اس خرچ کرنے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئ شخص گیہوں کا ایک دانہ عمدہ زمین میں بوئے، اس دانے سے گیہوں کا ایک پودا نکلے جس میں سات خوشے گیہوں کے پیدا ہوں، اور ہر خوشے میں سو دانے ہوں، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دانے سے سات سو دانے حاصل ہو گئے۔

مطلب یہ ہوا کہ الّٰلہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کا اجر و ثواب سات سو گنا تک پہنچتا ہے۔ ایک پیسہ خرچ کرے تو سات سو پیسوں کا ثواب حاصل ہو سکتا ہے، گو اس کی کچھ شرائط ہیں جو آگے آئیں گی۔ 

صحیح و معتبر احادیث میں ہے کہ ایک نیکی کا ثواب اس کا دس گنا ملتا ہے، اور سات سو گنا تک پہنچ سکتا ہے۔ حضرت عبدالّٰلہ ابن عبّاس رضی الّٰلہ عنہ نے فرمایا کہ جہاد اور حج میں ایک درہم خرچ کرنے کا ثواب سات سو درہم کے برابر ہے۔ (ابنَ کثیر، بحوالہٴ مسند احمد)

ماخوذ از معارف القرآن، از مفتی محمد شفیع رحمتہ الّٰلہ علیہ
بیمار کے لئے مسنون دعائیں پڑھنے کے فائدے

ان دعاؤں کے پڑھنے کا پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ ہم نے مریض کی عیادت کے وقت رسول الّٰلہ ﷺ کی سنّت پر عمل کیا اور وہ الفاظ کہے جو رسول الّٰلہ ﷺ کسی بیمار کی عیادت کے وقت کہا کرتے تھے۔ اور اتّباعِ سنّت وہ عظیم الشان عبادت ہے کہ قرآن کریم میں الّٰلہ تعالیٰ نے رسول الّٰلہ ﷺ سے خود خطاب فرمایا ہے کہ "کہہ دو کہ اگر تم الّٰلہ سے محبّت رکھتے ہو تو میری اتّباع کرو، الّٰلہ تم سے محبّت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔" (۳: ۳۱) ایک عام مسلمان کے لئے اس سے بڑا رتبہ کیا ہو سکتا ہے کہ جتنی دیر وہ کسی سنّت پہ عمل کرتا رہتا ہے، اتنی دیر وہ الّٰلہ تعالیٰ کا محبوب ہوتا ہے۔

دوسرے ایک انسان کے ساتھ ہمدردی کرنے کا ثواب حاصل ہو گا، اور دوسرےانسانوں بلکہ جانوروں تک کے ساتھ ہمدردی کرنا، ان کی تکلیف کو دور کرنے کی کوشش کرنا، ان کو آرام پہنچانے کی فکر کرنا، عظیم ترین عبادات میں شامل ہیں۔

تیسرے اپنے بھائ کے حق میں دعا کرنے کا ثواب حاصل ہوگا، اس لئے کہ دوسروں کے لئے دعا کرنا خود ایک عظیم الشان عبادت ہے۔

گویا اس چھوٹے سے عمل میں تین اتنی عظیم عبادتیں جمع ہو جاتی ہیں۔ دوسروں کی عیادت تو ہم سب کبھی نہ کبھی کرتے ہی ہیں لیکن خالی الذہن کسی کو دیکھنے جانے کے بجائے اگر انسان ذرا دھیان کرے اور اتباعِ سنّت کی نیّت کر لے کہ رسول الّٰلہ ﷺ بیمار کو دیکھنے جایا کرتے تھے ان کی اتّباع میں میں بھی اس بیمار کی عیادت کرنے جا رہا ہوں، یہ سوچ لے کہ میں الّٰلہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے اس شخص کو دیکھنے جا رہا ہوں، عیادت کے جو آداب ہیں ان پر عمل کرے کہ اس کا خاص خیال کرے کہ ایسا کوئ کام نہ کرے کہ اس کے جانے یا زیادہ بیٹھنے سے بیمار کو تنگی یا بے آرامی ہو، اور عیادت کے وقت مسنون دعا پڑھ لے، تو انشاٴ الّٰلہ عیادت کا یہ عمل ایک عظیم عبادت بن جائے گا۔

ماخوذ از بیان "بیمار کی عیادت کے آداب"، از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم

Tuesday, 2 May 2017

سورہٴ البقرہ: ٢٦١ تا ٢٦٤ ۔ دوسرا حصّہ

ان آیات میں سب سے پہلے الّٰلہ کی راہ میں خرچ کرنے کے فضائل کا بیان فرمایا گیا ہے۔ اس کے بعد ایسی شرائط کا بیان ہے جن کے ذریعے وہ صدقہ و خیرات الّٰلہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ عمل بن جائے۔ اس کے بعد ایسی چیزوں کا بیان ہے جو انسان کے صدقہ و خیرات کو برباد کر کے انہیں نیکیوں کے بجائے گناہوں میں بدل دیتی ہیں۔

اس کے بعد دو مثالیں بیان کی گئ ہیں، ایک ان نفقات و صدقات کی جو الّٰلہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہو گئے، دوسرے ان نفقات و صدقات کی جو انسان کے کسی اور عمل کی وجہ سے الّٰلہ تعالیٰ کے نزدیک نا پسندیدہ ہو گئے۔

ماخوذ از معارف القرآن، از مفتی محمد شفیع رحمتہ الّٰلہ علیہ
بیمار کے لئے کرنے والی مسنون دعا

عیادت کرنے کا تیسرا ادب یہ ہے کہ اگر موقع مناسب ہو، اور اس عمل کی وجہ سے مریض کو تکلیف نہ ہو، تو مریض کی پیشانی پہ ہاتھ رکھ کے یہ دعا پڑھیں:

اللھم رب الناس اذھب الباس انت الشافی لا شافی الل انت لا یغادر سقما۔ (ترمذی، کتاب الجنائز)

یعنی اے الّٰلہ، جو تمام انسانوں کے رب ہیں، تکلیف کو دور کرنے والے ہیں، اس بیمار کو شفاء عطا فرمائیے، آپ شفاء دینے والے ہیں، آپ کے سوا کوئ شفا دینے والا نہیں۔ اور ایسی شفاء عطا فرمائیے جو کسی بیماری کو نہ چھوڑے۔

یہ دعا جس کو یاد نہ ہو اس کو چاہیے کہ اس کو یاد کر لیں اور پھر یہ عادت بنا لیں کہ اگر کسی بیمار کے پاس جائیں تو موقع دیکھ کر یہ دعا ضرور پڑھ لیں۔

ماخوذ از بیان "بیمار کی عیادت کے آداب"، از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم

Monday, 1 May 2017

سورہٴ البقرہ: ٢٦١ تا ٢٦٤ ۔ پہلا حصّہ

مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٲلَهُمۡ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِى كُلِّ سُنۢبُلَةٍ۬ مِّاْئَةُ حَبَّةٍ۬‌ۗ وَٱللَّهُ يُضَـٰعِفُ لِمَن يَشَآءُ‌ۗ وَٱللَّهُ وَٲسِعٌ عَلِيمٌ (٢٦١) ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٲلَهُمۡ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ لَا يُتۡبِعُونَ مَآ أَنفَقُواْ مَنًّ۬ا وَلَآ أَذً۬ى‌ۙ لَّهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ (٢٦٢) ۞ قَوۡلٌ۬ مَّعۡرُوفٌ۬ وَمَغۡفِرَةٌ خَيۡرٌ۬ مِّن صَدَقَةٍ۬ يَتۡبَعُهَآ أَذً۬ى‌ۗ وَٱللَّهُ غَنِىٌّ حَلِيمٌ۬ (٢٦٣) يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُبۡطِلُواْ صَدَقَـٰتِكُم بِٱلۡمَنِّ وَٱلۡأَذَىٰ كَٱلَّذِى يُنفِقُ مَالَهُ ۥ رِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأَخِرِ‌ۖ...(٢٦٤)

جو لوگ الّٰلہ کے راستے میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ سات بالیں اگائے (اور) ہر بال میں سو دانے ہوں۔ اور الّٰلہ جس کے لئے چاہتا ہے (ثواب میں) کئ گنا اضافہ کر دیتا ہے۔ الّٰلہ بہت وسعت والا (اور) بڑے علم والا ہے۔ (٢٦١) جو لوگ اپنے مال الّٰلہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ کوئ تکلیف پہنچاتے ہیں، وہ اپنے پروردگار کے پاس اپنا ثواب پائیں گے؛ نہ ان کو کوئ خوف لاحق ہو گا، اور نہ کوئ غم پہنچے گا۔ (٢٦٢) بھلی بات کہہ دینا اور درگزر کرنا اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد کوئ تکلیف پہنچائ جائے۔ اور الّٰلہ بڑا بے نیاز، بہت بردبار ہے۔ (٢٦٣) اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر اس شخص کی طرح ضائع مت کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہے، اور الّٰلہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔۔۔(٢٦٤)

جاری ہے۔۔۔

ماخوذ از معارف القرآن، از مفتی محمد شفیع رحمتہ الّٰلہ علیہ
مریض کے حق میں دعا کرو

عیادت کرنے کا دوسرا ادب یہ ہے کہ جب آدمی کسی کی عیادت کے لئے جائے تو پہلے مختصراً اس کا حال دریافت کرے کہ کیسی طبیعت ہے؟ جب وہ مریض اپنی تکلیف بیان کرے تو پھر اس کے حق میں دعا کرے۔ کیا دعا کرے، یہ بھی رسول الّٰلہ ﷺ نے سکھایا ہے، چنانچہ رسول الّٰلہ ﷺ بیمار کو ان الفاظ سے دعا دیا کرتے تھے۔

لاَ باَسَ طَھور اِن’ شَا ٴَ الّٰلہ (صحیح بخاری، کتاب المرض)

یعنی اس تکلیف سے آپ کا کوئ نقصان نہیں، آپ کے لئے یہ تکلیف انشاٴ الّٰلہ گناہوں سے پاک ہونے کا ذریعہ بنے گی۔ اس دعا میں ایک طرف تو مریض کو تسلّی دے دی کہ تکلیف تو آپ کو ضرور ہے لیکن یہ تکلیف گناہوں سے پاکی اور آخرت کے ثواب کا ذریعہ بنے گی۔ دوسری طرف یہ دعا بھی ہے کہ اے الّٰلہ! اس تکلیف کو اس بیمار کے حق میں اجر و ثواب کا سبب بنا دیجئے اور گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ بنا دیجئے۔

ماخوذ از بیان "بیمار کی عیادت کے آداب"، از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم