Showing posts with label معاشرت. Show all posts
Showing posts with label معاشرت. Show all posts

Saturday, 12 November 2016

ایفائے عہد

"اور اس کتاب میں اسمٰعیل کا بھی ذکر کرو۔ بیشک وہ وعدے کے سچّے تھے، اور رسول اور نبی تھے۔" (سورہٴ مریم:۵۴)

ایفاء عہد ایک ایسا حسنِ خلق ہے کہ ہر شریف آدمی اس کو ضروری سمجھتا ہے اور اس کے خلاف کرنے کو ایک بہت بری حرکت قرار دیا جاتا ہے۔  حدیث شریف میں وعدہ خلافی کو نفاق کی علامت بتلایا ہے، اس لئے الله کا کوئ نبی و رسول ایسا نہیں جو وعدے کا پکّا نہ ہو۔ 

حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ "وعدہ ایک قرض ہے" یعنی جس طرح قرض کی ادائیگی انسان پر لازم ہے اسی طرح وعدہ پورا کرنے کا اہتمام بھی لازم ہے۔ ایک اور حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ "مومن کا وعدہ واجب ہے"۔

ماخوذ از معارف القرآن، تالیف مفتی محمد شفیع رحمتہ اللہ علیه

Saturday, 5 November 2016

مالی حقوق کا بیان۔ حصہ سوئم

"اور جب (کسی کو کوئ چیز) پیمانے سے ناپ کر دو تو پورا ناپو، اور صحیح ترازو سے تولا کرو۔ یہی طریقہ درست ہے، اور انجام کے لحاظ سے بہتر۔" (سورہٴ بنی اسرائیل:۳۵)

اس آیت میں لین دین کے معاملات میں ناپ تول پورا کرنےکی ہدایت اور اس میں کمی کرنے کی ممانعت کا حکم ہے۔ حضرات فقہاء نے فرمایا کہ اس آیت میں ناپ تول میں کمی کا جو حکم ہے اسکا حاصل یہ ہے کہ جس کا جتنا حق ہے اس سے کم دینا حرام ہے۔ اس لئے  اگر کوئ ملازم  اپنے تفویض کئے ہوئے اور مقرّرہ کام میں میں کمی کرے، یا جتنا وقت دینا ہے اس سے کم دے، یا مزدور اپنی مزدوری میں کام چوری کرے، یہ سب اس میں داخل ہے۔

ماخوذ از معارف القرآن، از مفتی محمد شفیع رحمتہ الله علیه

Thursday, 3 November 2016

مالی حقوق کا بیان۔ حصہ دوئم

گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔

دوسرا حکم اس آیت میں (جس کی تفصیل پچھلی پوسٹ میں آئ) عہد پورا کرنے کی تاکید ہے۔ عہد دو طرح کے ہیں۔ ایک  عہد وہ ہے جو بندہ اور الله کے درمیان ہے، جسکا حاصل احکام الٰہیہ کا مکمّل اتّباع اور الله تعالیٰ کی رضا جوئ ہے۔ دوسرا عہد وہ جو ہے جو انسان کسی انسان سے کرتا ہے جس میں تمام سیاسی، تجارتی، معاملاتی معاہدات شامل ہیں جو افراد یا جماعتوں کے درمیان دنیا میں ہوتے ہیں۔ 

پہلی قسم کے تمام معاہدات کا پورا کرنا انسان پر واجب ہے۔ دوسری قسم میں جو معاہدات خلافِ شرع نہ ہوں ان کا پورا کرنا واجب ہے، اور جو خلافِ شرع ہوں ان کا فریقِ ثانی کو اطّلاع کر کے ختم کر دینا واجب ہے۔ معاہدہ کی حقیقت یہ ہے کہ دو فریقوں کے درمیان کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا عہد ہو۔ جو کوئ شخص کسی سے یکطرفہ وعدہ کر لیتا ہے کہ میں آپ کو فلاں چیز دوں گا، یا آپ کا فلاں کام کر دوں گا اس کا پورا کرنا بھی واجب ہے۔ بلا عذرِ شرعی کے کسی سے وعدہ کر کے جو خلاف ورزی کرے گا وہ شرعاً گناہ گار ہو گا۔ حدیث میں اس کو عملی نفاق قرار دیا گیا ہے۔

ماخوذ از بیان القرآن، الیف مفتی محمد شفیع رحمتہ الله علیه

Wednesday, 2 November 2016

مالی حقوق کا بیان۔ حصہ اوّل

"ْاور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکو، مگر ایسے طریقے سے جو ( اس کے حق میں) بہترین ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کو پہنچ جائے۔ اور عہد کو پورا کرو، یقین جانو کہ عہد کے بارے میں (تہاری) بازپرس ہونے والی ہے۔ اور جب (کسی کو کوئ چیز) پیمانے سے ناپ کر دو تو پورا ناپو، اور صحیح ترازو سے تولا کرو۔ یہی طریقہ درست ہے، اور انجام کے لحاظ سے بہتر۔" (سورہٴ بنی اسرائیل:۳۴۔۳۵)

پہلی آیت میں یتیموں کے اموال کی حفاظت اور ان میں احتیاط کا حکم ہے کہ کوئ ایسا کام نہ کرو جو بچّوں کی مصلحت کے خلاف ہو۔ یتیموں کے مال کی حفاظت اور انتظام جن کے ذمّہ ہے ان پر لازم ہے کہ ان میں بڑی احتیاط سے کام لیں۔ صرف یتیموں کی مصلحت کو دیکھ کر خرچ کریں، اپنی خواہش یا بے فکری سے نہ خرچ کریں۔ اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے جب تک یتیم بچّے جوان ہو کر اپنے مال کی حفاظت خود نہ کر سکیں۔ 

ناجائز طریقے پر کسی کا مال خرچ کرنا بھی جائز نہیں۔ یہاں یتیموں کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ وہ خود تو کوئ حساب لینے کے قابل نہیں، اور دوسروں کو اس کی خبر نہیں ہو سکتی۔ جس جگہ کوئ انسان اپنے حق کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو وہاں حق تعالیٰ کا مطالبہ زیادہ شدید ہو جاتا ہے اور اس میں کوتاہی عام لوگوں کے حقوق کی نسبت سے زیادہ بڑا گناہ ہو جاتی ہے۔

جاری ہے۔۔۔

ماخوذ از معارف القرآن، تالیف مفتی محمد شفیع رحمتہ الله علیه

Tuesday, 1 November 2016

خرچ میں بد نظمی ممنوع ہے

"اور نہ تو (ایسے کنجوس بنو کہ) اپنے ہاتھ کو گردن سے باندھ کر رکھو، اور نہ (ایسے فضول خرچ کہ) ہاتھ کو بالکل ہی کھلا چھوڑ دو جس کے نتیجے میں تمہیں قابلِ ملامت اور قلّاش ہو کر بیٹھنا پڑے۔
(سورہٴ بنی  اسرائیل:۲۹)

اس آیت میں مال خرچ کرنے میں میانہ روی کی تاکید کی گئ ہے۔ نہ اتنا کنجوس ہو جائے کہ حق دار ضرورت مندوں کی مدد سے بھی ہاتھ روک لے، نہ ہی اتنا فضول خرچ ہو جائے کہ بعد میں خود اپنے لئے، اور جن لوگوں کے حقوق اس کے ذمّہ واجب ہیں، ان کے لئے مشکل کھڑی ہو جائے۔

آخر میں اس آیت میں بد نظمی کے ساتھ خرچ کرنے کو منع کیا گیا ہے کہ آنے والے حالات سے قطع نظر کر کے جو کچھ پاس ہے اسے اسی وقت خرچ کر ڈالے۔ کل کو دوسرے ضرورت مند لوگ آئیں یا کوئ اہم دینی ضرورت پیش آ جائے تو اب اس کے لئے قدرت نہ رہے۔ (قرطبی) یا اہل و عیال جنکے حقوق اس کے ذمّہ واجب ہیں ان کے حقوق ادا کرنے کی استطاعت نہ رہے۔  (مظہری) ملوماً محسوراً کے الفاظ کے متعلّق تفسیرِ مظہری میں ہے کہ ملوم کا تعلّق پہلی حالت یعنی بخل سے ہے کہ اگر ہاتھ کو بخل سے بالکل روک لے گا تو لوگ ملامت کریں گے اور محسورا کا تعلّق دوسری حالت سے ہے کہ خرچ کرنے میں اتنی زیادتی کرے کہ خود فقیر ہو جائے تو یہ محسورا یعنی تھکا ماندہ، عاجز یا حسرت زدہ ہو جائے گا۔

ماخوذ از معارف القرآن، تفسیرِ سورہٴ بنی اسرائیل، تالیف مفتی محمد شفیع رحمتہ الله علیه

Tuesday, 25 October 2016

والدین کے حقوق۔ حصہ ہفتم

حضرت عبد الله ابنِ عمر رضی الله تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا، "باپ کے ساتھ بڑا سلوک یہ ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔"

حضرت ابو اسید بدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک انصاری شخص نے رسول الله ﷺ سے سوال کیا، "یا رسول الله! ماں باپ کے انتقال کے بعد بھی ان کا کوئ حق میرے ذمہ باقی ہے؟" آپؐ نے فرمایا، "ہاں! ان کے لئے دعا اور استغفار کرنا، جو عہد انہوں نے کسی سے کیا تھا اس کو پورا کرنا، ان کے دوستوں کا اکرام و احترام کرنا، اور ان کے ایسے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا برتاؤ کرنا جنکا رشتہ قرابت صرف انہیں کے واسطے سے ہے۔ والدین کے یہ حقوق ہیں جو ان کے بعد بھی تمہارے ذمّہ باقی ہیں۔"

ماخوذ از معارف القرآن، تفسیرِ سورةٴ بنی اسرائیل، تالیف مفتی محمد شفیع رحمتہ الله علیه

Monday, 24 October 2016

والدین کے حقوق۔ حصہ ششم

حضرت اسماء ؓ نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ میری والدہ جو مشرک ہے مجھ سے ملنے کے لئے آتی ہے۔ کیا میرے لئے جائز ہے کہ اس کی خاطر مدارات کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا، "صِلِی ا’مَّکِ (یعنی اپنی ماں کی صلہ رحمی اور خاطر مدارات کرو)۔" اور غیر مسلم ماں باپ کے بارے میں خود قرآن کریم کا یہ ارشاد موجود ہے، "و صاحبھما فی الدنیا معروفا"، ترجمہ: جس کے ماں باپ غیر مسلم ہوں اور اسے بھی اسلام چھوڑنے کا حکم دیں تو ان کا اس معاملے میں حکم ماننا تو جائز نہیں مگر دنیا میں ان کے ساتھ معروف طریقے کا برتاؤ کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ معروف طریقہ سے یہی مراد ہے کہ ان کے ساتھ مدارات کا معاملہ کریں۔

ماخوذ از معارف القرآن، تفسیرِ سورہٴ بنی اسرائیل، تالیف مفتی محمد شفیع رحمتہ الله علیه

والدین کے حقوق۔ حصہ پنجم

بیہقی نے شعب الایمان  میں بروایت ابی بکرہ نقل کیا ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ اور سب گناہوں کی سزا تو الله تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں قیامت تک موٴخّر کر دیتے ہیں بجز والدین کی حق تلفی اور نافرمانی کے کہ اس کی سزا آخرت سے پہلے دنیا میں بھی دی جاتی ہے۔

ماخوذ از معارف القرآن، تفسیرِ سورہٴ بنی اسرائیل، تالیف مفتی محمد شفیع رحمتہ الله علیه

Sunday, 23 October 2016

والدین کے حقوق، حصہ چہارم

حضرت ابنِ عبّاس ؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ جو خدمت گذار بیٹا اپنے والدین پر رحمت و شفقت سے نظر ڈالتا ہے تو ہر نظر کے بدلے میں ایک حج مقبول کا ثواب پاتا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ اگر وہ دن میں سو مرتبہ اس طرح نظر کرے؟ آپؐ نے فرمایا، "ہاں سو مرتبہ بھی (ہر نظر پر یہی ثواب ملتا رہے گا)، الله تعالیٰ بڑا ہے۔ (اس کے خزانے میں کوئ کمی نہیں آتی)"

ماخوذ از معارف القرآن، تفسیر سورہٴ بنی اسرائیل، تالیف مفتی محمد شفیع رحمتہ الله علیہ

والدین کے حقوق۔ حصہ سوئم

حضرت ابنِ عبّاس ؓ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا، "جو شخص الله کے لئے اپنے ماں باپ کا فرمانبردار رہا اس کے لئے جنّت کے دو دروازے کھلے رہیں گے، اورجو ان کا نافرمان ہوا اس کے لئے جہنّم کے دو دروازے کھلے رہیں گے۔ اور اگر ماں باپ میں سے کوئ ایک ہی تھا تو ایک دروازہ (جنّت یا دوزخ کا) کھلا رہے گا۔ اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا یہ (جہنّم کی وعید) اس صورت میں بھی ہے کہ ماں باپ نے اس شخص پر ظلم کیا ہو؟ آپؐ نے تین مرتبہ فرمایا،  "وَ اِن ظَلَمَا وَ اِن ظَلَمَا وَ اِن ظَلَمَا۔" (یعنی ماں باپ کی نافرمانی اور ان کو ایذاء رسانی پر جہنّم کی وعید ہے خواہ ماں باپ نے اولاد پر ظلم ہی کیا ہو جس کا حاصل یہ ہے کہ اولاد کو ماں باپ سے انتقام لینے کا حق نہیں کہ انہوں نے ظلم کیا تو یہ بھی ان کی خدمت و اطاعت سے ہاتھ کھینچ لیں۔)

ماخوذ از معارف القرآن، تفسیرِ سورة بنی اسرائیل، تالیف مفتی محمد شفیع رحمتہ الله علیہ

Saturday, 22 October 2016

والدین کے حقوق۔ حصہ دوئم

امام قرطبی ؒ فرماتے ہیں کہ اس (جو پچھلی پوسٹ میں آئی)  آیت میں حق تعالیٰ نے والدین کے ادب و احترام اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کو اپنی عبادت کے ساتھ ملا کر واجب فرمایا ہے جیسا کہ سورة لقمان میں اپنے شکر کے ساتھ والدین کے شکر کو ملا کر لازم فرمایا ہے اَنِ اشکر لیِ وَلِوَ الِدَیکَ۔ (یعنی میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ الله جل شانہ کی عبادت کے بعد والدین کی اطاعت سب سے اہم، اور الله تعالیٰ کے شکر کی طرح والدین کا شکر گزار ہونا واجب ہے۔ صحیح بخاری کی یہ حدیث بھی اسی پر شاہد ہے کہ جس میں ہے کہ رسول الله ﷺ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ "الله کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل کیا ہے؟" آپﷺ نے فرمایا کہ "نماز اپنے وقت (مستحب) میں۔" اس نے پھر دریافت کیا کہ اس کے بعد کونسا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے تو آپؐ نے فرمایا، "والدین کے ساتھ اچھا سلوک۔"

ماخوذ از معارف القرآن، تفسیرِ سورة بنی اسرائیل، تالیف مفتی محمد شفیع رحمتہ الله علیه

والدین کے حقوق۔ حصّہ اوّل

اور تمہارے پروردگار نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو، اور نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے عزّت کے ساتھ بات کیا کرو، اور ان کے ساتھ محبّت کا برتاؤ کرتے ہوئے ان کے سامنے اپنے آپ کو انکساری سے جھکاؤ، اور یہ دعا کرو کہ :"یا رب! جس طرح انہوں نے میرے بچپن میں مجھے پالا ہے، آپ بھی ان کے ساتھ رحمت کا معاملہ کیجئے"۔ (سورة بنی اسرائیل: ۲۳۔۲۴)

Wednesday, 19 October 2016

حضرت ابو امامہ رضی الله عنہ نے روایت کیا ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز بعض لوگوں کا نامہٴ اعمال جب ان کے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ دیکھے گا کہ اس کے بعض اعمالِ صالحہ اس میں لکھے ہوئے نہیں ہیں تو عرض کرے گا کہ میرے پروردگار اس میں میرے فلاں فلاں عمل درج نہیں ہیں تو حق تعالیٰ کی طرف سے جواب ملے گا کہ ہم نے ان اعمال کو اس لئے مٹا دیا کہ تم لوگوں کی غیبت کرتے تھے۔ 

ماخوذ از معارف القرآن، تفسیرِ سورة بنی اسرائیل، تالیف مفتی محمد شفیع رحمتہ الله علیه

Saturday, 8 October 2016

رشوت لینا بھی الله کا عہد توڑنے میں شامل ہے

ابنِ عطیہ رحمتہ الله علیہ نے فرمایا کہ جس کام کا پورا کرنا کسی شخص کے ذمّہ واجب ہو وہ الله کا عہد اس کے ذمّہ ہے۔ اس کے پورا کرنے پہ کسی سے معاوضہ لینا اور بغیر لئے نہ کرنا الله کا عہد توڑنا ہے۔  اسی طرح جس کام کا نہ رکنا کسی کے ذمّہ واجب ہے کسی سے معاوضہ لے کر اس کو کر دینا یہ بھی الله کا عہد توڑنا ہے۔ 

اس سے معلوم ہوا کہ رشوت کی مروجّہ قسمیں سب حرام ہیں۔ جب کوئ سرکاری ملازم کسی کام کی تنخواہ حکومت سے پاتا ہے تو اس نے الله  سے عہد کر لیا ہے کہ یہ تنخواہ لے کر فلاں خدمت پوری کروں گا۔ اب اگر وہ اس کے کرنے پر کسی سے معاوضہ مانگے، اور بغیر معاوضہ اس کا کام نہ کرے، تو یہ عہدِالله کو توڑ رہا ہے۔ اسی طرح جس کام کا اس کو محکمہ کی طرف سے اختیار نہیں اس کو رشوت لے کر کر ڈالنا بھی الله سے عہد شکنی ہے۔ (بحرِ محیط)

ماخوذ از معارف القرآن، تفسیرِ سورة نحل، تالیف مفی محمد شفیع رحمتہ الله علیہ

Saturday, 10 September 2016

صلہٴ رحمی

حضرت انس رضی الّٰلہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الّٰلہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ الّٰلہ تعالیٰ اس کے رزق میں وسعت اور کاموں میں برکت عطا فرمادیں تو اس کو چاہیے کہ صلہٴ رحمی کرے۔ صلہٴ رحمی کے معنی یہ ہیں کہ جن لوگوں سے رشتہ داری کے خصوصی تعلّقات ہیں ان کی خبر گیری اور بقدرِ گنجائش امداد و اعانت کرے۔ 

حضرت عبدالّٰلہ ابنِ عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول الّٰلہ ﷺ نے فرمایا کہ صلہٴ رحمی صرف یہ نہیں کہ تم دوسرے عزیز کے احسان کا بدلہ ادا کردو، اور اس نے تمہارے ساتھ کوئ احسان کیا ہے تو تم اس پر احسان کردو۔ بلکہ اصل صلہٴ رحمی یہ ہے کہ تمہارا رشتہ دار عزیز تمہارے حقوق میں کوتاہی کرے، تم سے تعلّق نہ رکھے، تم پھر بھی محض الّٰلہ کے لئے اس سے تعلّق کو قائم رکھو اور اس پر احسان کرو۔

صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول الّٰلہ ﷺ نے فرمایا کہ بڑی صلہٴ رحمی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے انتقال کے بعد ان کے دوستوں سے وہی تعلّقات قائم رکھے جو باپ کے سامنے تھے۔

ماخوذ از معارف القرآن، تفسیر سورة رعد، تالیف مفتی محمد شفیع ؒ

حقوق کی ادائیگی ضروری ہے

حضرت مفتی محمد شفیع رحمتہ الّٰلہ علیہ نے فرمایا کہ:

والذین یصلون ما امر الّٰلہ به ان یوصل

سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تعلیم راہبانہ انداز سے ترکِ تعلّقات کی نہیں، بلکہ ضروری تعلّقات کو قائم رکھنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ماں باپ کے حقوق، اولاد، بیوی اور بہن بھائیوں کے حقوق، دوسرے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق الّٰلہ تعالیٰ نے ہر انسان پر لازم کئے ہیں۔ ان حقوق کو نظر انداز کر کے نفلی عبادت میں یا کسی دینی خدمت میں لگ جانا بھی جائز نہیں، تو دوسرے دنیاوی کاموں میں لگ کر ان کو بھلا دینا کیسے جائز ہو سکتا ہے۔ 

از معارف القرآن، تفسیر سورة رعد، تالیف مفتی محمد شفیع ؒ

عہد شکنی حرام ہے

حضرت مفتی محمد شفیع رحمتہ الّٰلہ علیہ نے معارف القرآن میں فرمایا کہ:

الذین یوفون بعھدالّٰلہ ولا ینقضون المیثاق

سے ثابت ہوا کہ جو معاہدہ کسی سےکر لیا جائے اس کی پابندی فرض اور اس کی خلاف ورزی حرام ہے، خواہ وہ معاہدہ الّٰلہ اور الّٰلہ کے رسول ﷺ سے ہو جیسے عہدِ ایمانی، یا مخلوقات میں سے کسی سے ہو، خواہ مسلمان سے یا غیر مسلم سے۔ عہد شکنی ہر حال میں حرام ہے۔

ماخوذ از معارف القرآن، از مفتی محمد شفیع ؒ، تفسیرِ سورة رعد۔

Tuesday, 6 September 2016

حضرت عمر فاروق رضی الّٰلہ عنہ اور غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت

حضرت عمر فاروق رضی الّٰلہ عنہ کے دور کا واقعہ ہے کہ بیت المقدّس میں غیر مسلموں سے جزیہ کی شکل میں ٹیکس وصول کیا جاتا تھا کہ ان کے جان مال اور آبرو کا تحفّظ کیا جائے۔ ایک موقع پر بیت المقدّس سے فوج بلا کر کسی اور محاذ پر بھیجنے کی ضرورت پیش آئ۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے کہا کہ بیت المقدّس میں جو غیر مسلم رہتے ہیں ہم نے ان کے تحفّظ کی ذمّہ داری لی ہے۔ اگر ہم اپنی فوج کو یہاں سے ہٹا لیں گے تو ان کا تحفّظ کون کرے گا؟ ہم نے ان سے اس کام کے لئے جزیہ لیا تھا لیکن ضرورت بھی شدید ہے۔ چنانچہ انہوں نے سارے غیر مسلموں کو بلا کر کہا کہ ہم نے تمہاری حفاظت کی ذمّہ داری لی تھی، اس کی خاطر تم سے ٹیکس بھی وصول کیا تھا۔ اب ہمیں فوج کی ضرورت پیش آ گئ ہے جس کی وجہ سے ہمیں فوج کہیں اور بھیجنی ہے اور ہم تمہارا تحفّظ نہیں کر سکتے۔ اس لئے جو ٹیکس تم سے لیا تھا وہ سارا تم کو واپس کیا جاتا ہے۔ 

ماخوذ از بیان "اسلام اور انسانی حقوق" از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم

Monday, 5 September 2016

اسلام اور انسانی حقوق۔ ۵۔ عقیدے کا تحفّظ

قرآن کریم کی آیت ہے کہ "لا اکراہ فی الدین"۔ دین میں کوئ جبر نہیں۔ دین میں کوئ زبردستی نہیں۔ اگر کسی مسلم مملکت کے اندر ایک عیسائ عیسائ رہنا چاہے، یہودی یہودی رہنا چاہے، تو اس کو دعوت تو دی جا سکتی ہے لیکن اس کے اوپر کوئ زبردستی نہیں کی جا سکتی کہ وہ مسلمان ہو جائے۔ اس کو زبردستی اسلام میں داخل کرنے کی کوشش کرنا جائز نہیں۔ 

جو غیر مسلم کسی مسلمان ریاست کے باشندے ہوں اسلام نے ان کے جان و مال،  عزّت و آبرو اور حقوق کے تحفّظ کو اسلامی ریاست کی ذمّہ داری قرار دیا ہے۔ اس بات کی پوری رعایت رکھی گئ ہے کہ انہیں نہ صرف اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہو، بلکہ انہیں روزگار، تعلیم اور حصولِ انصاف میں برابر کے مواقع حاصل ہوں۔ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کیا جائے، اور ان کی دلآزاری سے مکمّل پرہیز کیا جائے۔ اسی طرح اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو شائستگی کے دائرے میں اپنے مذہبی تہوار منانے کا پورا حق حاصل ہے، اور حکومت کی ذمّہ داری ہے کہ وہ اس میں نہ خود کوئ رکاوٹ ڈالے، اور نہ دوسروں کو ڈالنے دے۔

قرآن کریم نے فرمایا ہے: "الّٰلہ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے دین کے معاملے مہں تم سے جنگ نہیں کی ، اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، ان کے ساتھ تم نیکی کا یا انصاف کا معاملہ کرو۔ یقیناً الّٰلہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔" (سورة ممتحنہ، آیت ۸)

ماخوذ از بیان "اسلام اور انسانی حقوق" اور "مذہبی رواداری" از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم

Saturday, 3 September 2016

اسلام اور انسانی حقوق: ۳۔ ۱ آبرو کا تحفّظ

اسلام میں انسان کا تیسرا بنیادی حق یہ ہے کہ اس کی آبرو، اس کی عزّت محفوظ ہو۔ اسلام نے اس معاملے میں اتنی سختی فرمائ ہے کہ سامنے تو درکنار کسی کے پیٹھ پیچھے بھی اس کی برائ کرنا جائز نہیں۔غیبت کرنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کو رسول الّٰلہ ﷺ نے اپنے مرے ہوئے بھائ کا گوشت کھانے کے مماثل فرمایا۔ ہم میں سے کون ہو گا جو اس کا تصوّر بھی کرے کہ اپنے مرے ہوئے بھائ کا گوشت کھائے۔

بعض صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول الّٰلہ ﷺ! اگر وہ بات سچ ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ سچ ہو تو تب ہی تو وہ بات غیبت ہے۔ ورنہ تو وہ بہتان ہے۔ بہتان میں دو گناہ ہیں، ایک دوسرے کی برائ کرنے کا، دوسراجھوٹ بولنے کا۔ مختصر یہ کہ کسی انسان کے پیٹھ پیچھے اس کا برائ سے ذکر کرنا جائز نہیں، چاہے وہ سچ ہو یا جھوٹ ہو۔ صرف بعض خصوصی صورتوں میں اس کی اجازت ہے جس کی تفصیل ایک حالیہ تحریر میں آئ تھی۔ 

بعض لوگ غیبت کو جائز ثابت کرنے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ میں یہ بات اس کے منہ پہ کہہ سکتا ہوں۔ مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم نے فرمایا کہ کسی بات کے غیبت ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اگر اس آدمی کو پتہ چلے کہ میرے پیٹھ پیچھے میرے بارے میں یہ بات کہی گئ تو اس کو برا لگے، اس کے منہ پہ کہہ سکنے یا نہ کہہ سکنے کا اس سے کوئ تعلّق نہیں ۔ بلکہ منہ پہ برائ کرنے سے کسی انسان کی دلآزاری کا شدید گناہ الگ ہو گا۔

اسی طرح آج کل یہ بات بہت عام ہو گئ ہے کہ فلاں شخص کوئ عوامی شخصیت یا پبلک فیگر ہے، اس لئے اس کی بری باتیں سب کے سامنے بیان کرنا نا صرف جائز ہے بلکہ بہت اچھا ہے۔ اسلام میں عوامی یا نجی شخصیت کی کوئ تخصیص نہیں۔ کسی عوامی شخصیت  کی غیبت کرنا بھی ایسا ہی گناہ ہے جیسے کسی نجی شخصیت کی۔ بلکہ اگر کسی سے منسوب باتیں بلا تحقیق آگے بیان کر دی جائیں تو ایک الگ گناہ ہے۔ رسول الّٰلہ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائ باتیں بلا تحقیق آگے بیان کر دے۔

اسی طرح سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو آدمی عام طور سے گناہ گار، فاسق و فاجر مشہور ہو اس کی غیبت کرنا سب کے لئے جائز ہے۔ یہ خیال بالکل غلط ہے۔ الّٰلہ تعالیٰ نے ہر انسان کے حقوق کی الگ الگ حفاظت کی ہے۔ ایک محفل میں لوگ حجّاج بن یوسف کی غیبت کر رہے تھے۔ ایک بزرگ نے فرمایا کہ جس طرح الّٰلہ تعالیٰ حجّاج سے ان تمام بے گناہ مسلمانوں کے خون کا حساب لے گا جن کا خون اس کی گردن پر ہے، اسی طرح ان تمام لوگوں سے حجّاج کی غیبت کا حساب لے گا جنہوں نے اس کی غیبت کی ہے۔

پس مختصر یہ کہ شریعت میں ہر انسان کی آبرو کی حفاظت کی بہت سختی سے حفاظت کی گئ ہے اور انسان کو اپنے منہ سے کسی کے بارے میں بھی کوئ بری بات نکالتے ہوئے سوچ لینا چاہئے کہ ایک دن الّٰلہ تعالیٰ کے سامنے اس کا حساب دینا ہو گا۔

ماخوذ از بیان "اسلام اور انسانی حقوق" از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم